24 مئی 2012 - 19:30

بحرین میں علماء کونسل کے سربراہ نے کہا ہےکہ آل خلیفہ کے پاس ملت بحرین کے مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئي چارہ نہیں ہے۔

ابنا: علماء کونسل کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے آج شہر الدراز کی نماز جمعہ میں کہا کہ آل خلیفہ کے خلاف داخلی اور بیرونی سطح پر احتجاج میں اضافہ ہورہا ہے اور حکومت کے پاس ملت بحرین کے مطالبات تسلیم کرنے کےعلاوہ کوئي چارہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ کو انقلابیوں کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلانے کا سلسلہ بند کرناچاہیے۔ آیت اللہ عیسی قاسم نے کہا کہ آل خلیفہ اپنی حکومت باقی رکھنے کے لئے سعودی عرب سے الحاق چاہتی تھی لیکن اس سازش کی ناکامی پر بوکھلا گئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ اور اسکے مغربی حامی یہ تصور کرتےہیں کہ بحرینی عوام کو کچل کر وہ انقلابیوں کی صفوں میں دراڑ ڈال سکتے ہیں۔

ادھربحرین کی جمعیت عمل اسلامی نے ملت بحرین کے تعلق سے آل خلیفہ کی دوغلی پالیسیوں کی مذمت کی ہے ۔ جمعیت عمل اسلامی کے سینئر رہنما ہشام الصباغ نے آئي آر آئي بی سے گفتگو میں کہا ہے کہ آل خلیفہ کی تشدد آمیز کاروائیوں میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اور جب آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت پر عالمی دباؤ بڑھ جاتا ہے تو وہ انقلابیوں سے گفتگو کا ڈھونگ رچاتی ہے۔ انہوں نےکہا کہ اس سے قبل آل خلیفہ نے جو مذاکرات کا ڈھونگ رچایا تھا اس میں اس کے آلہ کار اور حامی شریک تھے اور انقلابیوں کی تعداد بہت کم تھی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر آل خلیفہ کے خلاف کوششیں جاری ہیں اور انقلابی دھڑے عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہشام الصباغ نے کہا کہ جینوا میں اقوام متحدہ کے مرکز میں انقلابی دھڑے آل خلیفہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یاد رہے بحرین میں آل خلیفہ کی تشدد آمیز پالیسیوں کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ ملت بحرین اپنے پامال شدہ حقوق کی بازیابی اور آل خلیفہ کی جاھلانہ امتیازی روشوں کےخلاف احتجاج کررہی ہے۔ ........ /169